اس واقعے کے بعد علاقے کے لوگ اس موضوع پر بات کر رہے ہیں، لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس لڑکی میں اتنا جنون آیا کہاں سے کہ اس نے منگیتر کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔

چاند پور کی ڈپٹی ایس پی سونیتا دہیا نے بی بی سی کو بتایا ’لڑکی کے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس کا ایک بھائی ہے اور ایک رشتہ دار کا بیٹا ان کے ساتھ اس معاملے میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور افراد بھی اس سازش کا حصہ تھے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’لڑکی انکر کے پیچھے پاگل ہے۔ اگر انکر اغوا کے دوران یا اس کے بعد تھوڑا بھی اعتراض کرتا تو عین ممکن تھا کہ وہ لوگ اسے مار ہی ڈالتے۔